جموں،06/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جموں میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی)کی دفعہ 144 کے تحت لگائی گئی پابندیاں منگل کودوسرے دن بھی جاری ہیں اوریہاں پر سبھی سرکاری اور پرائیویٹ اسکول بند ہیں۔حکومت کے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل370کو ختم کرنے اور ریاست کی تنظیم نو کرکے جموں و کشمیر اور لداخ نام سے مرکز کے زیر انتظام دو ریاستیں بنانے کے فیصلے کے بعد یہاں کافی چوکسی برتی جارہی ہے۔جموں،کٹھوعہ،سمبا،پونچھ،ڈوڈا،راجوری اور ادھم پور سمیت مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو حکم جاری کرکے کہا گیا ہے کہ سبھی پرائیویٹ اور سرکاری اسکول سکیورٹی وجوہات سے اگلی ہدایت تک بند رہیں گے۔جموں کی ڈپٹی کمشنر سشما چوہان نے کہا کہ جموں ضلع میں اگلے حکم تک دفعہ 144 نافذ رہے گی اور پابندیوں کے پیش نظر سبھی اسکول اوریونیورسٹیاں بند رہیں گی۔ایک افسر نے بتایا کہ جموں علاقے کے سبھی اضلاع میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کی 40کمپنیاں تعینات ہیں۔ادھم پور ضلع میں چار،ریاستی ضلع میں ایک،راجوری ضلع میں آٹھ،پونچھ ضلع میں چھ اور ڈوڈا ضلع میں سی آرپی ایف کی 11 کمپنیاں تعینات ہیں۔ساتھ ہی مختلف حصوں میں فوج کو بھی تعینات کیاگیا ہے۔انہوں نے کہا،”جموں علاقے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو ملتوی کردیاگیا ہے اور احتیاط کے طورپر پورے علاقے میں پابندیاں لگادی گئی ہیں۔مختلف اسکولوں اور جموں یونیورسٹی کے امتحانات اگلے حکم تک ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ان امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائیگا۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی حکومت نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اورآرٹیکل 35اے کو ہٹانے اور ریاست کو تنظیم نو کرکے مرکز کے زیر انتظام دو ریاستیں جموں و کشمیر اور لداخ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔